مھدی غضنفری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کی جانب سے پٹرول کی درآمد بند کرنے اور برامد شروع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ ایران کے پاس پٹرولیم صنعت کی مکمل ٹیکنالوجی موجود ہے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کو ایران کا دوست ملک قراردیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات بہتر ہیں اور تجارتی تعلقات کو بھی اعلی سطح پر فروغ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت پٹرولیم میں جنوبی افریقہ کی جانب سے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی درخواست کو ہم گشادہ روئی سے قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ ایران کی عظیم پٹرولیم صنعت میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔
دریں اثناء امریکی میگزین ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیاں ناکام ہوچکی ہیں۔ ٹائم نے جدیدترین اشاعت میں لکھا ہے کہ امریکہ کے قریبی ترین یورپی اتحادیوں نے ایران کےساتھ اپنے اقتصادی تعلقات منقطع نہیں کئے ہیں۔ ٹائم نے لکھا ہے کہ یورپی کمپنیوں کو امریکی کمپنیوں کے برعکس ایران سے گيس، تیل اور پٹرولیم مصنوعات خریدنے میں مکمل آزادی ہے اور یورپی یونین نے مالی اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ قانونی معاملات کی حمایت کریں۔ یورپ روزانہ بارہ لاکھ بیرل تیل ایران سے خریدتا ہے جبکہ 2008 میں یہ مقدار صرف چھ لاکھ بیرل تھی۔ ادھر یورپی یونین ایران کے ساتھ بعض شعبوں میں تعاون کو نہایت ضروری قراردیتی ہے جس سے وہ شعبے پابندیوں سے مستثنی ہوسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110